Old Posts

Kitab ut Tauheed

Download this book. (Right Click and select ‘Save target as or Save link as’)

گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

لمحة عن الفرق الضالة

گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف

 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

 

فرقوں اور ان کے مذہب کے بارے میں بات کرنے کی غرض وغایت

الحمدللہ رب العالمین، وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

اما بعد: فرقوں کے بارے میں بیان کرنا محض تاریخ نویسی نہیں کہ جس کا مقصد فرقوں کے بارے میں صرف معلومات حاصل کرنا ہو۔جیسا کہ تاریخی واقعات کے بارے میں پڑھا جاتا ہے۔ بلکہ فرقوں کے بارےمیں جاننا اس سے بڑھ کر اہمیت اور اس سے اعلی مقصد کا حامل ہےاور وہ یہ کہ ان فرقوں کے شر اور ان کی بدعات سے بچا جائے اور فرقہ اہل سنت والجماعت کو لازم پکڑنے پر ابھارا جائے۔

        مخالف وگمران فرقوں کو بدعات وگمراہیوں کو ترک کرنا محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تو ان کے بارے میں جاننے اور فرقۂناجیہ (نجات پانے والے فرقے) کے بارے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔

        یہ جانا جائے کہ اہل سنت والجماعت کہ جن کے ساتھ ہونا ہر مسلمان پر واجب ہے کون ہیں ان کے کیا اوصاف ہیں؟ اور ان کے مخالف فرقے کونسے ہیں؟

        ان کے کیا مذاہب اور کیا شبہات ہیں ؟   تاکہ ان سے خبردار رہ کر بچا جاسکے۔

        کیونکہ “من لا یعرف الشر یوشک ان یقع فیہ” (جو شر کو نہیں جانتا قریب ہے کہ وہ اس میں مبتلا ہوجائے)۔ جیسا کہ سیدنا حذیفہ بن یمان t فرماتے ہیں: ‘‘ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ e عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ، وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟، قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟، قَالَ: قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟، قَالَ: نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: نَعَمْ، قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟، قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، فَقُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟، قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ’’([1]) (لوگ رسول اللہ e سے خیر کے متعلق پوچھا کرتے تھے جبکہ میں آپ e سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ e ہم جاہلیت اور شر میں زندگی بسر کررہے تھے تو اللہ تعالی اس خیر (اسلام) کو لے لیا، پس کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟ آپ e نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پھر عرض کی: کیا پھر اس شر کے بعد دوبارہ سے خیر ہوگا؟ آپ e نے فرمایا: ہاں، اور اس میں دخن (دھواں) ہوگا (جس میں چیزیں واضح نظر نہیں آتیں)۔ میں نے کہا: اس کا دخن کیا ہوگا؟ آپ e نے فرمایا: میری سنت کے خلاف سنت اپنائیں گے اور میرے طریقے کے خلاف طریقے اپنائیں گے، کچھ باتوں کو تم معروف پاؤ گے اور کچھ کو منکر۔میں نے پھر دریافت کیا کہ: کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہوگا؟ آپ e نے فرمایا: ہاں، جہنم کے دروازوں کے طرف بلانے والے داعیان ہوں گے، جو بھی ان کی دعوت پر لبیک کہے گا وہ اسے جہنم رسید کروادیں گے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ e ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان کریں۔ فرمایا: ہاں، وہ ہماری ہی نسل سے، ہماری ہی بولی بولنے والے لوگ ہوں گے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ e اگر میں انہیں پالوں تو مجھے آپ e کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا۔ میں نے کہا: اگر ان کی نہ جماعت ہواور نہ ہی کوئی امام؟ تو آپ e نے فرمایا: تو پھر ان تمام فرقوں کو چھوڑ دینا اگرچہ تجھے درختوں کی جڑیں چبا کر ہی گزارا کیوں نہ کرنا پڑے یہاں تک کہ تجھے موت آجائے اور تو اسی منہج پر ہو)

        لہذا فرقوں کے مذاہب اور ان کے شبہات  اور ساتھ ہی فرقۂ ناجیہ اہل سنت والجماعت اوران کے منہج کی معرفت حاصل کرنے میں ایک مسلمان کے لیے خیر ِکثیر موجود ہے۔ کیونکہ ان گمران فرقوں کے پاس شبہات اور دھوکے میں ڈالنے والی گمراہیاں ہوتی ہیں، جن دعوتوں کے دام فریب میں  جاہل لوگ آکر فریب خوردہ ہوجاتےہیں، اور ان گمراہ دعوتوں (جماعتوں) کی طرف انتساب کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ e نے حدیثِ حذیفہ t میں فرمایا: (کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہوگا؟ آپ e نے فرمایا: ہاں، جہنم کے دروازوں کے طرف بلانے والے داعیان ہوں گے، جو بھی ان کی دعوت پر لبیک کہے گا وہ اسے جہنم رسید کروادیں گے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ e ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان کریں۔ فرمایا: ہاں، وہ ہماری ہی نسل سے، ہماری ہی بولی بولنے والے لوگ ہوں گے)

        پس (جب ہم ہی میں سے ہوں گے تو پہچان کے اعتبار سے) شدید خطرہ ہے۔ چناچہ آپ e نے اپنے صحابہ کو ایک دن وعظ فرمایا جیساکہ سیدنا عرباض بن ساریہ t کی حدیث میں ہے کہ: ‘‘فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَأَوْصِنَا۔ قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ’’([2]) (آپ e نے ہمیں ایک بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل دھل گئے اور آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ e گویا کہ یہ کسی الوداع کہنے والے کا وعظ لگ رہاہے پس آپ e ہمیں کوئی وصیت کیجئے۔ فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنے کی اور (اپنے حکمرانوں کی) سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ تم پر کسی غلام ہی کو حاکم کیوں نہ بنادیا جائے۔ کیونکہ تم میں سے جو زیادہ عرصہ زندہ رہا تو وہ عنقریب بہت اختلاف دیکھے گا، پس تم میری اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس سے تمسک اختیار کرنا، اور اسے اپنے جبڑوں سے مضبوطی سے جکڑے رہنا۔ اور دین میں نئے نئے کاموں سے بچنا، کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے)

        پس آپ e نے خبردی کہ عنقریب اختلاف وتفرقہ ہوگا جس میں مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنے کی وصیت فرمائی اور ساتھ ہی سنت رسول e سے تمسک کرنے اور اس کے مخالف جو بھی اقوال،افکار وگمراہ مذاہب ہوں انہیں ترک کرنے کی وصیت فرمائی۔ اللہ تعالی نے بھی اجتماع(اتحاد) واپنی کتاب سے اعتصام (مضبوطی سے پکڑنے) کا حکم فرمایا ہے اور تفرقہ بازی سے منع فرمای ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾ (آل عمران: 103)

(تم سب مل کر اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ نہ کرو، اللہ تعالی کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پس اس نے تمہارے دلوں میں باہم الفت ڈال دی، اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم تو جہنم کے گھڑے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے لیکن اللہ تعالی نے تمہیں اس سے بچا لیا، اسی طرح سے اللہ تعالی تمہیں اپنی آیات کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ)

اس آیت سے لے کر یہاں تک کہ:

﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (105) يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ﴾ (آل عمران: 105-106)

(اورکہیں ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اختلاف کیا اور تفرقہ بازی کی حالانکہ ان کے پاس واضح آیات ونشانیاں آچکی تھیں، ایسوں کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ جس دن بعض چہرے منور ہوں گے تو بعض روسیاہ)

        سیدنا ابن عباس w فرماتے ہیں: ‘‘تبیض وجوہ اھل السنۃ والجماعۃ، وتسود وجوہ اھل البدعۃ والفرقۃ’’([3]) (اہل سنت والجماعت کے چہرے منور ہوں گے اور اہل بدعت وفرقہ پرستوں کے چہرے سیاہ ہوں گے)

        اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴾ (الانعام: 159)

(بے شک جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ کیا اور مختلف جماعتیں بن گئے تمہیں ان سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے، ان کا معاملہ تو اللہ تعالی کے پاس ہے پھر وہ انہیں جتا دے گا جو حرکتیں وہ کیا کرتے تھے)

        پس دین تو ایک ہے اور وہ وہی ہے جو کہ محمد رسول اللہ e لے کر آئے تھے۔ اس میں کسی قسم کی مختلف دینی ومذہبی تقسیم کی گنجائش نہیں۔ بلکہ دین تو واحد ایک ہے اور وہ اللہ تعالی کا وہ دین برحق ہےجس پر اس کے رسول e اپنی امت کو چھوڑ گئے تھے۔ کیونکہ (حدیث کے مطابق) آپ e تو اپنی امت کو ایسی روشن شاہراہ پر چھوڑ گئے تھے کہ جس کی راتیں بھی اس کے دن کی طرح روشن ہیں کہ جس سے منحرف نہیں ہوتا مگر وہی جو ہلاکت میں پڑنے والا ہو۔

        آپ e نے فرمایا: ‘‘تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَبَدًا ، كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي’’([4]) (میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم ان سے تمسک اختیار کروگے تو کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے: کتاب اللہ اور میری سنت)

جاری ہے۔ ۔ ۔

(المحاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ، المحاضرہ رقم 47 جلد دوم)


[1] البخاری المناقب (3411)، مسلم الامارۃ (1847)، ابو داود الفتن والملاحم (4244)، ابن ماجہ الفتن (3979)، احمد (5/406)۔ رواہ البخاری (فتح الباری) برقم (3606، 3607، 7084)، ومسم فی (صحیحہ) ایضا برقم (1847، واحمد مطولا بلفظ مخالف (5/386، 403)، ومختصرا بلفظ مختلف (5/44)، وابوداود السجستانی (4244)، ولفظ مختلف: برقم (4246)، والنسائی فی (الکبری) (5/17، 18)، وابن ماجہ برقم (4027، 4029)، وابوداود الطیالسی فی (مسندہ) برقم (442)، وبلفظ مختلف: (443، ص 59)، وابوعوانۃ فی (الصحیح المسند) (4/474 و475)، وعبدالرزاق فی (مصنفہ) برقم (20711)، (11/341)، وابن ابی شیبۃ فی (کتاب الفتن)برقم (2449 و8960) (18969 و18980)، والحاکم فی (مستدرکہ (4/432) وصحح اسنادہ، ووافقہ الذھبی)۔

[2] الترمذی العلم (2676)، ابو داود السنۃ (4607)، وابن ماجہ المقدمۃ (42)، احمد (4/126)، الدارمی المقدمۃ (95)۔

[3] ذکرہ البغوی فی (تفسیرہ) (2/87)، وابن کثیر (2/87)، طبعۃ الاندلس۔

[4]رواہ مالک فی (الموطا) ص 648، رقم الحدیث (1619)، والحاکم فی (المستدرک) (1/93) موصلا عن ابی ھریرۃ۔ ورواہ مطولا دون لفظۃ وسنتي: مسلم برقم (1218)، وابوداود برقم (1909)، وابن ماجۃ برقم (3110)، من حدیث جابر بن عبداللہ وفیہ صفۃ حجۃ النبي وخطبتہ بھم۔

Deen main Aitedaal Pasandi Apnana

By Sheikh Rabee bin hadee al madkhalee on ‘Deen main Aitedaal pasandi apnana aur ghuloo wa shiddat pasandi ki muzammat’

Download from here. (Right click and ‘Save link as’ or ‘Save target as’)

Jihad e Afghanistan ki Haqeeqat

Download this book.

Tauheed Ka Paigham

Download This Book

Haqeeqat Tauheed

Download This Book

GumRah Firqo ka Taruf

Download This Book

Eemaan K Bunyadi Usool

Download This Book

Dosti Aur Dushmani ka Islami Mayyaar

Download This Book

Allaah Ka Sahara Mazboot Hai

Download This Book

Aimmah Arbah (Aqeedah Imam Abu Hanifa, Maleke Aur Ahmed)

Download This Book

Aimah Hanafi

Download This book